11 اگست 2011 - 19:30

برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ختم ہونے کے ذمے دار افغان حکومت کے عہدے دار ہیں۔

ابنا: برطانوی اخبارٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق اس سال کے شروع میں امریکا اورطالبان کے نمائندوں کے درمیان جرمنی میں دو اور قطر میں ایک ملاقات ہوئی تھی۔

جرمنی کے خصوصی نمائندے مائیکل اسٹائینر کی سربراہی میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں طالبان رہنما ملا عمر کے سابق پرائیوٹ سیکرٹری طیب آغا ، امریکی محکمہ خارجہ اور سی آئی اے کے نمائندے شریک تھے۔ ابتدائی سطح کے ان مذاکرات کی اولین شرط یہ تھی کہ بات چیت کی تفصیلات اور اس میں شرکت کرنے والے طالبان نمائندوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ تاہم افغان حکومت کے عہدے داروں نے دانستہ طور پر مذاکرات کی تفصیلات اور طالبان نمائندے کی شناخت میڈیا میں ظاہر کردی۔ اس کے نتیجے میں طالبان پیچھے ہٹ گئے ، مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوگیا اور امریکی حکام کوششوں کے باوجود بھی طیب آغا سے رابطہ نہیں کرسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110